رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے اور امریکا کی امن عمل کی سرپرستی کے لیے نا اہل ہونے کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے امن عمل کی نگرانی کے لیے روس اور چین سے مدد لینے کی تیاری شروع کی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے دو الگ الگ وفود چین او روس روانہ ہوگئے ہیں۔ یہ وفود چین اور روس کی قیادت سے ملاقات میں عشروں سے حل طلب فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر بات کریں گے۔خبر رساں ادارے’وفا‘ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے اپنی نیابت میں دو وفود کو چین اور روس بھیجا ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کواسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قراردیے جانے کےÂ رد عمل میں کیا گیا ہے کہ امریکا نے القدس کےحوالے سے متنازع فیصلہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں امن عمل کی ثالثی کا اہل نہیں رہا ہے۔
تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن احمد المجدلانی کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے وفود صدر عباس کاÂ خصوصی پیغام لے کر چین اور روس روانہ ہوئے ہیں۔ صدر عباس نے چینی اور روسی قیادت کے ذریعے فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لیے کوششیں شروع کی ہیں اور وہ دونوں ملکوں کی قیادت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے منصفانہ حقوق کے حصول کے لیے فلسطینی قوم کا بھرپور مقدمہ لڑیں گے۔
