مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "یونائیڈ چرچ آف کریسٹ” کی مرکزی جنرل کونسل کا ایک اہم اجلاس منگل کی شام ریاست اھایو کے کلیفلانڈ شہر میں ہوا جس میں سنہ 1967 ء کی جنگ میں اسرائیل کے زیرتسلط آنے والے علاقوں میں کام کرنے والے اسرائیلی اور دوسری کمپنیوں سے تجارتی تعلقات ختم کرنے اور سرمایہ واپس لینے کا اعلان کیا۔
مرکزی کونسل کے اجلاس نے اسرائیلی کالونیوں کے بائیکاٹ کے لیے رائے شماری کرائی۔ اس موقع پر 508 ارکان نے بائیکاٹ کی حمایت، 124 نے مخالفت اور 38 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
خیال رہے کہ امریکا میں "کمیونٹی ایوینجلیکل اور ریفارمڈ چرچ” کے زیرانتظام "چرف آف کریسٹ” کا قیام سنہ 1957 ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس وقت اس کے ممبران کی تعداد 1.7 ملین سے زیادہ ہے اور یہ امریکا میں پروٹسٹنٹ مسیحیوں کا دوسرا بڑا چرچ ہے۔
خیال رہے کہ "ٰ یو سی سی” چرچ کی مشائخ کونسل نے ایک سال قبل فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں میں سرگرم مقامی اور غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ لین دین ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
