فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن احمد عطون کا کہنا ہے کہ
اسرائیل نے القدس میں اپنی ریشہ دوانیاں تیز کر دی ہیںاور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ القدس کی اسلامی شناخت کو مسخ کر کے اسے یہودی رنگ میں رنگنے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتا جا رہا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ امت مسلمہ کی جانب سے القدس کی مدد کرنے میں تاخیر اسرائیل کو اپنے ناپاک منصوبوں پر عمل درآمد کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔اسرائیلی حکومت نے القدس میں مسجد اقصی کے نیچے اور اطراف میں کھدائیوں کا سلسلہ وسیع کر دیا ہے۔ اسی طرح اس مقدس شہر کی اسلامی کالونیوں میں حکومتی دفاتر کھولے جا رہے ہیں۔ مسجد اقصی کے تحت کھدائیاں اس وقت القدس کو یہودیانے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن اور رالقدس سے بے دخل کر کے رام اللہ بھیجے گئے فلسطینی رہنما کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے معالی ادومیم نامی یہودی بستی میں نئے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا اعلان دراصل فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ ملنے کا جواب ہے ، تین ہزار نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کا اعلان کر کے اسرائیل نے عالمی برادری اور دنیا بھر کے اسلامی ممالک کو فلسطین کو یو این کی رکنیت دلوانے کا جواب دیا ہے۔خبر رساں ایجنسی ”قدس پریس ” سے اپنی گفتگو کے دوران احمد عطون کا کہنا تھا کہ فلسطین میں چیلنجز بڑھتے جارہے ہیں، اسرائیل نے تمام عالمی قراردادوں کو یکسر نظر انداز کر کے مغربی کنارے کے اطراف نسلی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیوار کی تعمیر جاری رکھی ہوئی ہے، اب یواین میں نیا درجہ حاصل کرنے کے بعد اس کی فلسطین کے ساتھ دشمنی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل عالمی قوانین نہیں بلکہ صرف طاقت کے قانون کو مانتا ہے، جیسا کے غزہ پر حملے کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں کے تابڑ توڑ حملوں نے ہی اسے فلسطینی مزاحمت کاروں کی شرط پر سیز فائر معاہدے پر مجبور کیا تھا۔ احمد عطون نے خبردار کیا کہ القدس کی مدد کرنے میں کسی بھی قسم کی تاخیر اسرائیل کو اپنے بھیانک منصوبوں کو عملی جامہ پہنچانے کی مہلت فراہم کر رہی ہے اور وہ قبلہ اول کے اطراف پھیلے اس بابرکت شہر کو تیزی سے یہودیاتہ جا رہا ہے۔
