رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے والوں میں بیت المقدس کے علاوہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے 200 باشندے بھی شامل تھے جو’’ایریز‘‘ گذرگاہ عبور کرکے قبلہ اوّل پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
نماز جمعہ سے قبل ہی اسرائیلی فوج اور پولیس نے مسجد اقصیٰ کے اطراف قدیم تاریخی شہر کا محاصرہ کررکھا تھا اور جگہ جگہ ناکے لگا کر شہریوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق نماز جمعہ کی امامت الشیخ یوسف ابو سنینہ نے کی۔ نماز جمعہ کے اجتماع سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے قبلہ اوّل سمیت فلسطین میں موجود تمام مقدس مقامات کے دفاع کے لیے ہرممکن اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات پر قبضے مجرمانہ سازشوں کی مذمت کی اور کہا کہ مقدسات کا دفاع تمام مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ آزاد نہیں ہوتے فلسطین آزاد نہیں ہوگا۔
