فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’یونیسکو‘ کا 41 واں اجلاس2 اور 12 جولائی کو پولینڈ کے شہر کراکوف میں ہوگا۔ اس اجلاس میں اردن کے سابقہ مطالبے پر القدس اور اس کی قدیم دیواروں کی حیثیت پر دوبارہ رائے شماری کرائےجائے گی۔
خیال رہے کہ ’یونیسکو‘ نے اکتوبر 2016ء کو منظور کی گئی ایک قرارداد میں مقبوضہ بیت المقدس اور حرم قدسی کو مسلمانوں کی ملکیت قرار دیتے ہوئے اسرائیل کا اس پر قبضہ باطل قرار دیا تھا۔
آئندہ ماہ پولینڈ میں ہونے والے اجلاس میں یونیسکو کی تشکیل کردہ ایگزیکٹو کمیٹی بین الاقوامی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیے گئے مقامات پر رائے شماری کرے گی۔
اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق یونیسکو میں اسرائیل کے مندوب کرمیل ھاکوہین نے کہا ہے کہ وہ اردن کی اپیل پر بیت المقدس اور الخلیل شہروں کی اسلامی حیثیت رکوانے کی کوشش کریں گے۔
دوسری طرف فلسطینی مندوبین اور اردن سمیت کئی مسلمان اور عرب ممالک کے سفارت کاروں نے غرب اردن کے تاریخی شہر الخلیل اور مسجد ابراہیمی کو بھی مسلمانوں کے تاریخی ورثے کے طور پرتسلیم کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ اسرائیل اس مہم کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔
