فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی عالم دین نے کہا کہ فلسطین میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتیں فلسطین پر لڑنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے ’اعلان بالفور‘ جاری کرکے فلسطین میں صیہونی بستیوں کے قیام کی بنیاد رکھی۔ فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا راستہ دیا۔ نہتے فلسطینیوں کو شہید کرنے، انہیں جیلوں میں ڈالنے، ان کی املاک تباہ کرنے اور ان کی عزتیں پامال کرنے، انہیں ہرطرح سے مغلوب کرنے، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ سے محروم کرنے گہری سازش کی۔
الشیخ ابو اسنینہ نے کہا کہ آج اگر بیت المقدس کے فلسطینی تاجروں اور معمولی دکانداروں پر صہیونی ریاست کمر توڑ ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس کا قصور وار بھی برطانیہ ہے۔
فلسطینی عالم دین نے کہا کہ اسرائیلی دشمن کی قید میں زندگی گذارنے والے فلسطینی بدترین آزمائش سے گذررہے ہیں۔ ان فلسطینیوں کی رہائی بھی ہمارے فرائض کا حصہ ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ فلسطینیوں کے درمیان مصالحت کی باتیں سنائی دیتی ہیں مگر عملا مصالحت کہاں ہے۔ ہم ایک وقت کیوں نہیں بن سکتے ہیں۔
الشیخ یوسف ابو اسنینہ نے صیہونی ریاست کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے باہر کیمرے نصب کرنے کی خفیہ سازشوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ صیہونی ریاست قبلہ اوّل پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔ صیہونی ریاست کے تمام اقدامات نہ صرف قبلہ اوّل کی بلکہ اسلام اور پورے عالم اسلام کی توہین ہے۔
رپورٹ کے مطابق کل جمعہ کے اجتماع میں چالیس ہزار فلسطینیوں نے الشیخ ابو اسنینہ کی امامت میں جمعہ کی نماز ادا کی۔
