خیال رہے کہ اسرائیل نے جنوری 2015ء کے اوائل میں فلسطینی اتھارٹی کے واجبات اس وقت روکنے کا اعلان کیا تھا جب صدر محمود عباس نے عالمی عدالت انصاف کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔
اسرائیلی اخبار "یسرئیل ھیوم” کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاھو کی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے واجبات میں مزید 27 ملین ڈالر کا اضافہ کردیا ہے۔ گذشتہ جنوری میں صہیونی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے 100 ملین ڈالر روکنے کا اعلان کیا تھا اور اب یہ مقدار 127ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز روکنے کے اعلان پر عالمی برادری اور یورپی یونین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی زوال پذیر ہوسکتی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکس اور دیگر رقومات فوری طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ تل ابیب فلسطینی اتھارٹی کی درآمدات اور برآمدات کے 70 فی صد محصولات کی ادئیگی نہ روکے اور یہ رقوم فوری طور پر ادا کی جائیں۔
عبرانی اخبار کے مطابق پیش آئندہ مہینوں میں اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے مزید محصولات بھی روک سکتا ہے کیونکہ نیتن یاھو کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی اداروں میں اسرائیل کے خلاف انتقامی پالیسی جاری رکھی تو وہ رام اللہ کے مزید محصولات بھی بند کردیں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
