(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی عدالت نے فلسطینی مجلس قانون ساز کونسل کے رکن اور اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سینیر رہنما الشیخ حسن یوسف کی انتظامی حراست میں مزید چھ ماہ کی توسیع کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے جمعہ کے روز حماس رہنما الشیخ حسن یوسف کی انتظامی حراست میں مزید چھ ماہ کی توسیع کا حکم جاری کیا۔ محروس حماس رہنما کے صاحبزادے اویس یوسف نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی حکام نے اس کے والد کو انتظامی حراست میں توسیع کا نوٹس جاری کیا ہے جس میں انہیں اگلے چھ ماہ تک بدستور جیل میں رہنا پڑے گا۔اویس نے بتایا کہ ان کے والد کی طبیعت کافی ناساز ہے مگر صہیونی حکام نے انہیں دوبارہ انتظامی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ الشیخ حسن یوسف کو اسرائیلی فوجیوں نے 20 اکتوبر 2015 ء کو حراست میں لیا تھا اور انہیں گرفتار کرنے کے بعد چھ ماہ کے لیے قابل توسیع انتظامی حراست کے تحت جیل بھجوا دیا تھا۔
حسن یوسف اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے مغرب میں واقع عوفر نامی جیل میں قید ہیں۔ اسی جیل کی وجہ عدالت نے انہیں انتظامی حراست میں توسیع کا نوٹس جاری کیا ہے۔ الشیخ حسن یوسف یوسف اب تک 12 سال کا عرصہ اسرائیلی زندانوں میں گذار چکے ہیں۔
