فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انسداد صہیونی آباد کاری کمیٹی کے چیئرمین غیاث ناصرنے ایک بیان میں بتایا کہ اُنہوں نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں بیت لحم کے جنوبی قصبے الخضر میں صہیونی آباد کاری کے ایک جاری منصوبے پر کام روکنے کے لیے رٹ دائر کی تھی۔
کمیٹی کے بیت لحم کے مندوب حسن بریجیہ کا کہنا ہے کہ اڈووکیٹ غیاث ناصر نے ’سیدی بوعز‘ صہیونی کالونی کے بالمقابل وادی الغویط میں صہیونی آباد کاروں کے لیے تعمیرات کے ایک منصوبے پر کام رکوانے کی درخواست دی تھی۔ عدالت نے کمیٹی کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے صہیونی انتظامیہ کو مکانات کی تعمیر سے روک دیا ہے۔ عدالت نے ابراہیم سلیمان صبیح نامی شہری کی اراضی پر بنائے گئے پانچ عارضی شیلٹرز نہ ہٹانے کا بھی حکم دیا ہے۔
