اسرائیلی سپریم کورٹ نے الخلیل سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی خاندان نے یہودی آبادکاروں کی جانب سے قبضے میں لی جانیوالی 300 دونم زمین واگزار کروانے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارتس کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے سے متعلق بتایا کہ یہ زمین کافی عرصہ قبل قبضے میں لے لی گئی تھی تو اس وجہ سے اب اسرائیلی فوج اور سول انتظامیہ کے لئے ان آبادکاروں کے خلاف کارروائی کرنا ممکن نہیں ہے۔ایک اور واقعہ میں اسرائیلی وزیر برائے ہائوسنگ اوری ارئیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے عین کریم میں 2250 ہائوسنگ یونٹس والی ایک نئی رہائشی بستی کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
ہارتس ہی کے مطابق وزارت ہائوسنگ اس یہودی بستی کی تعمیر کے لئے استعمال ہونے والی زمین کی ملکیت فلسطینیوں سے لے کر اسرائیلی حکام کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔
