مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی ریاست کو ڈھونگ قرار دینے والے اس گروپ کو "یہود حاسیدیم” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے گذشتہ روز نیویارک میں ایک احتجاجی جلوس نکالا جس میں اسرائیلی ثقافت اور کلچر کی شدید مذمت کی گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو یہودیوں کا نام لینے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ صہیونی ریاست یہودیوں کی ہرگز نمائندگی نہیں کرتی۔
اس موقع پر مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور وہ اسرائیلی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ نیویارک کی شارع 5 سے گذرتے ہوئے یہودیوں نے ارض فلسطین میں یہودی ریاست کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
حاسیدیم یہودیوں کے سربراہ اور سرکردہ یہودی ربی ڈیوڈ فیلڈ مین نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ "اسرائیلی ریاست تو محض بدنامی کا ایک داغ ہے۔ بلا شبہ یہ یہودیوں کی نمائندی ہرگز نہیں کرتا۔ اسرائیل ان لوگوں نے قائم کیا جو خدا اور دین کے دشمن ہیں۔ وہ پوری دنیا کے یہودیوں کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتے ہیں”۔
فیلڈ مین کا کہنا تھا کہ آج سے 67 سال پیشتر ارض فلسطین میں اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست قائم کی گئی۔ ہم اس ریاست کو نہیں مانتے کیونکہ یہ خدا سے بغاوت اور نفرت کرنے والوں کا کام ہے۔ یہ صرف یہودیوں کے مادی مفادات کے لیے قائم کیا گیا ملک ہے، اسے یہودیوں کی نمائندگی کا نام بھی نہیں لینا چاہیے خاص طورپر فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد تو اس کا کوئی جوازہی نہیں رہتا۔
اسرائیل مخالف یہودی گروپ کے احتجاجی مظاہرے کے وقت سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود اسرائیل کے حامیوں اور مخالفین کےدرمیان ایک دوسرے پر خوب لعن طن کی گئی۔
خیال رہے کہ "الحاسیدیم” نامی یہودی گروپ 17 ویں صدی میں ظہور پذیر ہوا۔ یہ روحانیت پر یقین رکھتے ہیں جو اللہ کی اطاعت اورحضرت یعقوب علیہ السلام سے محبت اورنیک لوگوں کی اتباع کی تلقین کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں یہودیوں کو اپنی الگ سے مملکت قائم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس گروپ کے پیروکاروں کی تعداد اگرچہ اتنی زیادہ نہیں لیکن امریکا جیسے ملک میں ان کا مظاہرہ صہیونی لابی کے لیے ناک کا بال ثابت ہو رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
