الخلیل (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صیہونی حکام ایک معمر فلسطینی شہری کی انتظامی حراست کی سزا نہ دیے جانے کی یقین دہانی اور وعدے سے مکرگئے اور اسے چھ ماہ کی انتظامی قید سزا سنا دی ہے۔ جس کے بعد بہ طور احتجاج اسیرنے معطل کی گئی بھوک ہڑتال پھر سے شروع کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل سے تعلق رکھنے والےÂ 61 سالہ رزق الرجوب نے چند ہفتے قبل بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ کئی روز تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے بعد اسرائیلی حکام نے یقین دلایا تھا کہ انہیں جلد ہی رہا کیا جائے گا۔ اس لیے وہ بھوک ہڑتال ختم کردیں۔ اس یقین دہانی کے بعد اسیر الرجوب نے بھوک ہڑتال معطل کردی تھی۔گذشتہ روز صیہونی حکام نے دجل اور فریب کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ رزقو الرجوب کو چھ ماہ کے لیے بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مطابق اسرائیل کی عسقلان نامی فوجی عدالت نے رزق الرجوب کو انتظامی قید کی سزا سنائی ہے۔
فلسطینی محکمہ اسیران کا کہنا ہے کہ صیہونی حکام نے الرجوب کو دھوکہ دیا ہے۔ وہ مسلسل 23 روز تک پہلے بھی بلا جواز گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال کرچکے ہیں۔ انہوں نے صیہونی حکام کی طرف سے رہائی کی یقین دہانی کے بعد بھوک ہڑتال معطل کی تھی۔ مگر صیہونی حکام نے انہیں دھوکہ دیتے ہوئے چھ ماہ کے لیے قابل تجدید سزا کے تحت پابند سلاسل کردیا ہے۔
خیال رہے کہ رزق الرجوب کو اسرائیلی فوج نے 27 نومبر کو حراست میں لیا تھا جس کے بعد انہیں کہا گیا تھا کہ اگر وہ رہائی چاہتے ہیں توانہیں فلسطین سے نکل جانا ہوگا۔ اس پر انہوں نے صیہونی ریاست کی طرف سے جلاوطنی کی پیشکش پر رہائی ٹھکرا دی تھی اور بلا جواز گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ جب ان کی بھوک ہڑتال تئیس دن تک پہنچی تو صیہونی فوج نے انہیں یقین دلایا کہ انہیں جلد ہی غیرمشروط طور پر رہا کردیا جائے گا۔Â اس لیے وہ بھوک ہڑتال ختم کردیں۔ اسیر کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی صیہونی حکام کی اس مجرمانہ دھوکہ دہی کو انتہائی شرمناک اور غیرانسانی قرار دیا ہے۔
