اسرائیل کی ایک جیل میں زیرحراست اردن کے شہری مرعی صبح ابو سعیدہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جیل میں ابو سعیدہ کو اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم وہ فی الحال محفوظ ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مرعی صبح کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کے عزیز کو "نفحہ” جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں گذشتہ 24 اپریل کے بعد سے اب تک اس پروحشیانہ تشدد کیا گیا، تاکہ اسے جان سے مار ڈالا جائے۔
اسیرمرعی صبح کی والدہ نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ انہیں جیل سے مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ ان کے بیٹے کی طبی حالت نہایت خراب ہے اور صہیونی جیل انتظامیہ نے اسے اسپتال منتقل کرنے سے بھی انکار کردیا ہے۔ اس کے علاوہ ریڈ کراس سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی کسی مندوب کو اس سے ملنےکی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اسیر کی والدہ نے بتایا کہ اس کا بیٹا نو سال سے صہیونی جیل میں مقید ہے اور اسے قابض اسرائیل کی جیل سے گیارہ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران صہیونی تفتیش کاروں نے اسے تفتیش کے دوران بندوق کے بٹ مار مار کر بے ہوش کیا ہے، جس کے بعد اچانک وہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔
اسیر کی والدہ نے بتایا کہ اس کے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے اس کے فوری طبی معائنے کی اشد ضرورت ہے، یہ کام صرف انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ہی کرسکتی ہیں۔ بوڑھی خاتون نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کہ وہ اس کے بیٹے کی جان بچانے کے لیے فوری مداخلت کریں اورنہ صہیونی درندے اس کے بیٹے کو قتل کردیں گے۔ خیال رہے کہ قابض صہیونی فوج نے اسیر مرعی صبح ابو سعیدہ کو چار اگست سنہ 2004ء کو مغربی کنارے سے حراست میں لیا تھا۔ اس پرایک یہودی آباد کار کو قتل کرنے کا الزام ڈالا گیا ہے جس کے تحت اسے گیارہ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ مرعی ابو صبح شادی شدہ ہے اور اس اس کے بڑے بیٹے کی عمر آٹھ سال ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

