مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے گیارہ ماہ سے پابند سلاسل فلسطینی پارلیمنٹ کے رکن احمد عطون کو گذشتہ روز رہا کردیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق احمد عطون اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے پارلیمانی بلاک اصلاح وتبدیلی کی ٹکٹ پر بیت المقدس سے سنہ 2006ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔احمد عطون مجموعی طورپر13 سال صیہونی زندانوں میں پابند سلاسل رہ چکے ہیں۔
باون سالہ رکن پارلیمان کو اسرائیلی فوج نے آخری بار 12 اپریل 2017ء کو رام اللہ میں البیرہ کے علاقے میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے وقت صیہونی فوج نے ان کے گھرمیں بڑے پیمانے پر توڑپھوڑ اور لوٹ مار بھی کی تھی۔
سنہ 2010ء میں اسرائیلی حکومت نے احمد عطون کی القدس کی شہریت منسوخ کردی تھی اور انہیں بیت المقدس سے رام اللہ بے دخل کردیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ تین دیگر فلسطینی سیاسی رہنما اور رکان پارلیمان محمد ابو طیر، محمد طوطح اور سابق وزیر خالد ابو عرفہ کی القدس کی شہریت بھی منسوخ کرکے انہیں وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔ ان پر اسرائیلی ریاست کے ساتھ بد دیانتی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔
