فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل میں عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے چینل 2 نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی حکومت رام اللہ میں قائم ’عمونا‘ یہودی کالونی کے متاثرین کو فی خاندان ایک لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر کے عوض معاوضہ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے کئی ماہ قبل جاری کردہ ایک فیصلے میں ’عمونا‘ کالونی خالی کرنے اور فلسطینیوں کی مغصوبہ اراضی مالکان کولوٹانے کا حکم دیا تھا۔ فیصلے پرعمل درآمد کے لیے حکومت کو 25 دسمبر تک کی مہلت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ’عمونا‘ یہودی کالونی سنہ 1995ء میں یہودی آباد کاروں نے اپنی مرضی سے فلسطینیوں کی نجی اراضی پرقبضے کے بعد تعمیر کی تھی۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دی تھی جس میں اپیل کی گئی تھی کہ ’عمونا‘ کالونی ان کی نجی اراضی پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ اس کالونی کو خالی کرکے اس کی اراضی فلسطینیوں کے حوالے کرے۔ اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہودی آباد کاروں نے یہ جگہ فلسطینیوں سے خرید کی تھی تاہم فلسطینی شہری صہیونی حکومت اور آباد کاروں کے دعوے کو من گھڑت اور جعلی قرا دے کر مسترد کرچکے ہیں۔
اس کالونی میں 40 مکانات تعمیر کیے گئے ہیں جن میں یہودی آباد کار بسائے گئے ہیں۔ یہ کالونی اسرائیلی حکومت کی منظوری سے نہیں بلکہ یہودی آباد کاروں نے اپنی مرضی سے فلسطینیوں کی نجی اراضی پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے بعد قائم کی تھی۔ فلسطینیوں نے اپنی اراضی پرناجائز قبضے کے خلاف اسرائیلی سپریم کورٹ میں درخواستیں دی تھیں جس پر عدالت نے عمونا کالونی کو خالی کرنے اور اراضی مالکان کو واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
