مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ’’اسیران و محررین‘‘ کمیٹی کے میڈیا ایڈوائزر اور انسانی حقوق گروپ کے مندوب حسن عبد ربہ نے بتایا کہ صہیونی ریاست فلسطینی قیدیوں سے مذموم مقاصد کے لیے ان سے سیاسی نوعیت کا بھی انتقام لیتی ہے۔ کئی جان لیوا امراض کا شکار فلسطینیوں سے دانستہ طورپر لاپرواہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک نوعیت کا سیاسی انتقام ہے جو قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل سیکڑوں فلسطینیوں کو بدترین لاپرواہی اور صہیونی غفلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریض اسیروں کے فوری علاج معالجے کی ضرورت ہے اور بہت سے قیدیوں کا علاج نہ کرایا گیا تو ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جس کا ذمہ دار اسرائیل ہوگا۔ ایسے مہلک امراض کا شکار فلسطینیوں کو زیادہ سے زیادہ سکون آور ادویات دےکرانہیں ٹال دیا جاتا ہے حالانکہ انہیں نیند کی گولیاں دینے کی نہیں بلکہ مکمل علاج معالجے کی ضرورت ہے۔
حسن عبد ربہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل خواتین، بچوں اور بڑی عمر کے مردوں کے ساتھ یکساں وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ انہیں مسلسل ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور انہیں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے بدترین مراحل سے گذارا جاتا ہے۔ مجموعی طورپر اسرائیلی جیلوں میں قید 95 فی صد فلسطینیوں کو ہولناک تشدد کا سامنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
