مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق”اوچا” کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ہفتے کے دوران فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں اسرائیلی فورسز کے پرتشدد ہتھکنڈوں کے استعمال میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ سات دنوں میں تین فلسطینیوں کو نہایت بے دردی سے گولیاں مار کرشہید کردیا گیا۔ جب کہ بانوے فلسطینیوں کو بے گھر کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے منظم ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نابلس میں دو فلسطینیوں کو شہید کیا۔ دونوں کی عمریں بیس سال کے درمیان تھیں۔ اس کے علاوہ جنوبی غزہ کی پٹی میں ایک فلسطینی خاتون اسرائیل کے ناکارہ بم پھٹنے سے زخمی ہونے کے بعد گذشتہ ہفتے چل بسیں جس کے بعد شہداء کی تعداد تین ہوگئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے پھینکے گئے ناکارہ بم پھٹنے سے پچھلے کچھ عرصے کے دوران 50 شہری شہید ہوچکے ہیں۔
اوچا کی رپورٹ کے مطابق پچھلی ایک دہائی میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ناکارہ بم پھٹنے سے 16 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 170 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں 22 بچے بتائے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے دوران 27 فلسطینی گولیاں لگنے، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے۔ ان میں پانچ بارہ سال سے کم عمرکے بچے بھی شامل ہیں۔ پچھلے ہفتے میں فلسطینیوں کے خلاف جاری صہیونی کریک ڈائون میں 78 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں 35 مکانات مسمار کیے گئے، ان میں سے 6 عمارتیں غیرملکی امدادی اداروں کی فنڈنگ سے تعمیر کی گئی تھیں۔ مکانات مسماری کے نتیجے میں 55 بچوں سمیت 92 فلسطینی بے گھر ہوئے جب کہ 81 افراد بالواسطہ طورپر مکانات مسماری سے متاثر ہوئے ہیں۔
