اسرائیلی حکام نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہارہمدردی کرنے آنے والے درجنوں انسانی حقوق کے کارکنوں کو روک دیا ہے۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق اتوار اور پیر کے ایام میں مختلف ملکوں سے آنے والے 80 انسانی حقوق کے کارکنوں کو فلسطینی علاقے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں داخلے سے روک دیا گیا۔ یہ تمام امن کارکن بیت لحم میں منعقدہ "فلسطین ویلکم” کی تقریبات میں شرکت کے لیے آئے تھے۔
صہیونی پولیس کاکہنا ہے کہ انہوں نے اسی انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے ساٹھ کارکن تاحال فلسطین میں داخلے کے منتظر ہیں تاہم ان میں سے بیس واپس چلے گئے ہیں۔ کچھ کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان”لوبا السمری” نے ایک بیان میں بتایا کہ "پیر کی شام تک انہوں نے 78 عالمی امن کارکنوں کو فلسطینی علاقوں میں جانے روکتے ہوئے انہیں حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے 51 کا تعلق فلسطین گیارہ برطانیہ، چھ اٹلی اور اسپین، اور آٹھ کینیڈا، پرتگال،سوئٹرزلینڈ اور امریکا کے مندوبین بھی شامل ہیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ اٹھارہ افراد کو ان کے ممالک میں واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ بقیہ ساٹھ نے رضاکارانہ طورپر واپسی سے انکار کردیا ہے جس بعد وہ فی الحال صہیونی پولیس کی تحویل میں ہیں اور انہیں تل الربیع(تل ابیب) منتقل کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینیوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے آنے والے غیرملکی امن مندوبین کی تعداد پندرہ سو کے لگ بھگ تھی تاہم صہیونی حکومت کے دباؤ کے تحت سیکڑوں کارکن فلسطین نہیں آسکے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

