مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سیاسی قیدیوں کے معاملات کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کی جانب سے الخلیل شہر 18 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں پانچ طلباء، چھ اساتذہ اور اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے دو اہم رہ نما بھی شامل ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کی تحویل میں مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے 17 افراد قید ہیں۔ ان میں چار طلباء ، عوام محاذ برائے آزادی فلسطین کا ایک رکن اور ایک کا تعلق فلسطین پیپلز پارٹی سے ہے۔
رام اللہ اور البیرہ سے نو سیاسی کارکنوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔ان میں ایک صحافی، ایک یونیورسٹی کا طالب علم اور تین سابق اسیران بھی شامل ہیں جو تین سال تک عباس ملیشیا کی جیل میں رہ چکے ہیں۔
حراست میں رکھے گئے کارکنوں میں بیت لحم کے نو، قلقیلیہ کے نو اور طولکرم کے بھی نو کارکن شامل ہیں۔ جنین شہر کے سات افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے جن میں سے دو کا تعلق اسلامی جہاد کے ساتھ ہے۔ دونوں مارچ 2010 ء کے بعد سے مسلسل زیرحراست ہیں۔ طوباس سے بھی سات افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے اسلامی جہاد اور حماس کے رہ نما بھی شامل ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں پابند سلاسل سیاسی کارکنوں میں سے تین کا تعلق مقبوضہ بیت المقدس سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک سابق اسیر بھی شامل ہے جس نے اسرائیلی جیلوں میں 15 سال قید کاٹ رکھی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
