مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق آبزرویٹری کی فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یرموک پناہ گزین کیمپ میں جمعرات کے روز اکناف بیت المقدس اور داعش کے جنگجوئوں کے درمیان خون ریزی جھڑپیں جاری رہیں۔ عسکری گروپوں کی باہم لڑائی کے ساتھ ساتھ شامی فوج کی جانب سے کیمپ کے مختلف حصوں پر جنگی طیاروں اور توپ خانے سے بھی گولہ باری جاری ہی جس کےنتیجے میں متعدد افراد کے مارے جانے کاخدشہ ہے۔ تاہم کیمپ تک رسائی نہ ہونے کے باعث لڑائی میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات سامنےنہیں آسکی ہیں۔
شام کے مصدقہ ذرائع نے یرموک پناہ گزین کیمپ سے داعش کے انخلاء کی خبروں کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ داعش نے کیمپ کے مزید کچھ حصے پراپنا قبضہ جما لیا ہے اور یرموک پناہ گزین کیمپ کا 80 فی صد داعش ہی کے قبضے میں ہے۔
ادھر یرموک پناہ گزین کیمپ میں موجود اکناف بیت المقدس نامی تنظیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے دو روز سے سخت ترین لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اکناف کا کہنا ہے کہ تنظیم کے جنگجو دولت اسلامی کے شدت پسندوں کی طرف سے کیمپ کا محاصرہ توڑنے کے لیے پوری کوشش کررہے ہیں۔
اکناف بیت المقدس کی جانب سے کیمپ میں موجود دیگر بعض تنظیموں کی معاونت کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ شام الرسول، جیش الابابیل، جیش الاسلام، اتحاد اجناد الشام اور دوسری تنظیموں نے بھی داعش کے خلاف جاری لڑائی میں اکناف کی معاونت کی ہے۔ داعش اور اس کےایجنٹوں کو کیمپ سے نکال باہر کرنے کے لیے کیمپ میں موجود فلسطینی تنظیموں کا ایک دوسرے سے تعاون قابل تحسین اقدام ہے۔
خیال رہے کہ داعش نے رواں ماہ کے اوائل میں یرموک پناہ گزین کیمپ کے ایک بڑے حصے پرقبضہ کرلیا تھا۔ شامی فوج داعش کو کیمپ سے نکالنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور داعشی جنگجو نہایت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
