مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم” مرکزبرائے اسیران فلسطین” کے تحقیق کار ریاض الاشقر نے بتایا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے انتظامی حراست کے مجموعی طورپر 79 حکم نامے جاری کیے گئے۔ ان میں سے 44 حکم نامے مغربی کنارے کے تاریخی شہرالخلیل سے حراست میں لیے گئے شہریوں کے خلاف جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت الخلیل شہر انتظامی قیدیوں کے حوالے سے پہلے نمبر پرہے اور اس شہر کے 192 شہریوں کو انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ جبکہ کل انتظامی محروسین کی تعداد 500 ہے۔ عموما قیدیوں کو چار اور چھ ماہ کی انتظامی حراست کی سزا دی جاتی ہے جس میں بار بار اتنے ہی عرصے کی توسیع کی جاتی ہے۔
ریاض الاشقر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں ماہ میں 14 نئی قیدیوں کو انتظامی حراست کی سزائیں دی گئیں جبکہ پہلے سے انتظامی حراست میں رکھے گئے 65 فلسطینیوں کی سزا میں تجدید کی گئی۔ ان میں سے بعض قیدی ایسے ہیں جن کی مدت حراست میں پانچویں اور چھٹی بار توسیع کی گئی۔ ان میں الخلیل سے تعلق رکھنے والے فلسطینی رکن پارلیمنٹ نائف محمد رجوب اورمحمد النتشہ کا نام بھی شامل ہے جن کی مدت حراست میں مزید دو ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ دیگر رہنمائوں میں رافت ناصیف ہیں جن کی مدت حراست میں چھٹی بار توسیع کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال میں اب تک 480 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان میں 106 نئے قیدی بھی شامل ہیں۔ باقی کی مدت حراست میں مزید توسیع کی گئی۔ صہیونی حکام نے حال ہی میں 32 سالہ محمود شلاتو کو رہا کیا ہے۔ شلاتو تین سال تک اسرائیل کی جیلوں میں بغیر کسی الزام کے محض انتظامی قید میں رہے ہیں۔
ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ بغیر کسی الزام اور ثبوت کے کسی شہری کو کئی کئی سال تک قید میں رکھنے کا کوئی آئینی ، اخلاقی اور قانونی جواز نہیں ہے۔ یہ طرز عمل عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس پرعالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی بجائے خود ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ فلسطینی شہریوں کو بلا جواز انتظامی حراست میں رکھے جانے کے خلاف انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو آواز اٹھانی چاہیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
