رپورٹ کے مطابق بھوک ہڑتالی صحافی جو اس وقت اسرائیلی جیل کے العفولہ اسپتال میں اسرائیلی فوج کی تحویل میں ہیں نے صہیونی عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کو بھی مسترد کردیا ہے۔ اسرائیلی عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ القیق کی انتظامی حراست کی سزا معطل کردی جائے تاہم اسے اسپتال میں فوج ہی کی حراست میں زیرعلاج رکھا جائے۔ القیق کا کہنا ہے کہ وہ اپنی حراست مکمل ختم ہونے تک بھوک ہڑتال جاری رکھے گا۔
ایک کاغذ پر اپنا بیان قلم بند کرتے ہوئے القیق نے لکھا کہ انتظامی حراست کی سزا معطل کرنے کےبعد مجھے اسپتال میں فوج کی تحویل میں رکھنے کی اجازت دینا دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ میں نے بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے اور میں اس وقت اپنی بھوک ہڑتال ختم کروں گا جب مجھے رہائی کے بعد مغربی کنارے پہنچایا جائے گا۔
محمد القیق نے اپنی کمزور اور نحیف آواز میں اپنی قوی ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں صہیونی غاصبوں کے سامنے شکست نہیں کھاؤں گا۔ جب تک میری بھوک ہڑتال فتح سے ہمکنار نہیں ہوتی اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔
محمد القیق کے وکیل اشرف ابو سنینہ نے اپنے موکل کی بسترعلاج سے لی گئی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ بھوک ہڑتال کے بعد اسیر کی پہلی بار تصاویر سامنے آئی ہیں۔ ان تصاویر میں اس کی داڑھی بڑھی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور اس کے جسم کی کمزوری اور نقاہت صاف عیاں ہے۔
اسرائیل کنیسٹ کے عرب رکن اسامہ السعدی نے ٹیلیفون کے ذریعے القیق کا اہل خانہ سے رابطہ بھی کرایا ہے۔ اپنی کمزور آواز میں القیق نے اپنے والد اور خاندان کے دیگر افراد کی خیریت دریافت کی۔
قبل ازیں کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے القیق کی بھوک ہڑتال مکمل طورپر ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ انتظامی حراست کے ساتھ ساتھ القیق کا اسپتال میں علاج جاری رکھا جائے۔
