قابض اسرائیلی حکومت نے عالمی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام مغربی کنارے میں 70یہودی بستیوں کی تعمیرو توسیع کی منظوری دے دی ہے۔
دوسری جانب مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی پر غاصبانہ قبضےاور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ بھی زوروں پر ہے۔
اسرائیلی اخبار”یروشلیم پوسٹ” کی رپورٹ میں اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودیوں کی مزید تعداد کو بسانے کے لیے مزید 70 کالونیوں کی تعمیرو توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں 57 کالونیاں نسلی دیوار کے باہراور باقی دیوار کے اندر تعمیر کی جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق ان سترکالونیوں کی تعمیرو توسیع اسرائیلی کے مغربی کنارے میں اس گرینڈ تعمیراتی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت مقبوضہ علاقوں میں 557 کالونیوں کی تعمیرو توسیع کا کام کرنا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے مغربی کنارے میں ستر یہودی بستیوں کی تعمیروتوسیع کی اجازت دینے کے بعد ان میں ہونے والے تعمیراتی منصوبوں کے لیے خطیر رقم پا بجٹ بھی منظور کیا گیا ہے۔ تعمیراتی سیکٹر کےعلاوہ یہودی بستیوں کی زراعت کے شعبوں کے لیے ایک لاکھ 50ہزارشیکل دیہی علاقوں جبکہ 107,000 شیکل شہری علاقوں میں قائم یہودی بستیوں کی تعمیرمیں زرعی شعبے کےلیے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صہیونی حکومت کی جانب سے یہودی بستیوں میں بسائے جانےوالے یہودی آباد کاروں کو 100,000 شیکل تک قرضہ جات کی فراہمی کی شکل میں دی جائے گی۔
ادھر دوسری جانب فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیرکی مخالف تنظیم”Now Peace” نے یہودی بستیوں کی تعمیرکی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں نسلی دیوار کے باہر یہودی بستیوں کی تعمیرکی تعمیر روک دے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ یہودی بستیوں کی تعمیر سےثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل عالمی دباؤ کو نظرانداز کر کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیرو توسیع خطے میں دیرپاامن کے قیام کے لیے جاری عالمی کوششیں بری طرح متاثر ہوں گی۔

