(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی وزارت امور اسیران کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی شہریوں کی تعداد 7000 سے تجاوز کرگئی ہے۔ محروسین میں چار سو بچے اور 69 خواتین بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی بچوں کی تعداد 400 ہے جنمیں سے 94 کو مختلف مدت کی قید کی سزاؤں کا سامنا ہے۔ 50 بچے انتظامی حراست کی سزا کے تحت پابند سلاسل ہیں اور بقیہ 250 بچوں کس عدالتوں میں پیش کیے اور ان پر کوئی مقدمہ چلائے بغیر زندانوں میں ٹھونسا گیا ہے۔اسیران میں 750 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزائیں دی گئی ہیں۔ اسیران میں 30 سنہ 1994 ء میں طے پائے اوسلو معاہدے سے بھی پہلے کے پابند سلاسل ہیں۔کم عمر اسیران میں 16 بچیاں بھی شامل ہیں جن میں سے دیما الواوائی نامی بچی کی عمر محض 12 سال ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید 450 فلسطینی جب حراست میں لیے گئے تو ان کی عمریں 18 سال سے کم تھیں مگردوران حراست ان کی عمر 18 سال سے تجاوز کرگئی اور اب انہیں بڑی عمرکے قیدیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
کم عمر فلسطینیوں کو تین بڑے زندانوں میں ڈالا گیا ہے۔ 115 فلسطینی نونہال مرکزی جیل عوفر، 110 مجد اور 45 ھشارون جب کہ باقی کچھ بچے عتصیون حراستی مرکز میں رکھے گئےہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے فلسطینی بچوں پر عام قیدیوں کی طرح بدترین مظالم ڈھائے جانے ہیں اور بچوں کے حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔ دوران حراست بچوں کو طرح طرح کے تعذیب و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
