مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے ایک پرائمری اسکول کی انتظامیہ نے سات عشروں بعد اسکول میں قومی کرنسی کو رواج دینے کا منفرد سلسلہ شروع کیا ہے۔ عجہ بوائز پرائمری اسکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’’فلسطینی پائونڈ‘‘ اس لیے رواج دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ نئی نسل کو یہ یاد دلایا جائے کہ کسی زمانے میں ان کی اپنی کرنسی بھی ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ اب یہ کرنسی متروک ہوچکی ہے مگر اسکول کی حد تک نہ صرف اس کا لین دین کیا جا رہا ہے بلکہ آہستہ آہستہ فلسطینی پائونڈز کو بازاروں میں ترویج دینے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسکول کی کینٹین سے طلباء فلسطینی کرنسی ہی میں اشیاء خرید کرتے ہیں۔ انہیں فلسطینی کرنسی کے عوض پھل، دودھ اور دیگر اشیاء با آسانی مل جاتی ہیں۔ بعد ازاں کینٹین والے خود فلسطینی کرنسی کو دوسری کرنسیوں میں تبدیل کرلیتے ہیں۔
اسکول میں بچوں کو یہ کرنسی مختلف مدات میں دی جاتی ہے۔ اچھی تعلیمی کارکردی کا مظاہرہ کرنے اور ٹیسٹوں میں اچھے نمبر حاصل کرنے والے طلباء کو یومیہ تین سے پانچ فلسطینی پائونڈز دیے جاتے ہیں۔
اسکول کے پرنسپل غازی ملحم نے ترک خبر رساں ادارے’’اناطولیہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے فلسطینی کرنسی کے 1700 پائونڈز شائع کرائے ہیں، جنہیں بچوں اور اساتذہ میں بھی وقتا تقسیم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے فلسطینی قومی کرنسی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فلسطینی کرنسی سنہ 1927 ء میں’’فلسطین کرنسی بورڈ‘‘ نے متعارف کرائی تھی۔ اس وقت فلسطین برطانوی سامراج کے زیرتسلط تھا لیکن فلسطین بھر میں کرنسی صرف ’’فلسطینی پائونڈز‘‘ ہی رائج تھی۔ سنہ 1948 ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطینی کرنسی ختم کردی گئی اور اس کی جگہ اسرائیل کے’’شیکل‘‘ نے لے لی۔
ایک سوال کے جواب میں غازی ملحم کا کہنا تھا کہ قومی کرنسی شائع کرنے اور انہیں طلباء میں تقسیم کرنے کے دو مقاصد ہیں۔ ایک تو یہ کہ بچوں کو اپنی کرنسی کے بارے میں اگاہ کرتے ہوئے فلسطین بھر میں اپنی ہی کرنسی متعارف کرانا ہے اور دوسرا مقصد بچوں میں قومی کرنسی کے نوٹ تقسیم کرکے انہیں بہتر تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسکول کے ہراستاد کو یومیہ پانچ فلسطینی پائونڈز دیے جاتے ہیں۔ اچھی کارکردی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء کو بھی انعامات کی شکل میں یہی کرنسی دی جاتی ہے۔ اساتذہ اور طلباء سب اسکول کی کینٹین سے قومی کرنسی ہی کے بدلے اشیاء خرید کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ کے بعد ہم جمع ہونے والی فلسطینی کرنسی کو فلسطینی وزارت تعلیم کو دے کر اس کے بدلے میں دوسرے کرنسی نوٹ حاصل کرلیتے ہیں۔ یوں ہم فلسطین کے دوسرے علاقوں میں بھی اس کی ترویج کی کوشش کررہے ہیں۔
فلسطینی تجزیہ نگار سلیم المبیض کا کہنا ہے کہ سنہ 1948 ء میں 52.6 ملین فلسطینی پائونڈز فلسطین میں موجود تھے۔ تب فلسطینی کرنسی کی مالیت آسٹریلوی پائونڈ کے برابر تھی۔ جبکہ مجموعی طورپر اندرون اوربیرون ملک فلسطینی کرنسی کی تگعداد 96 ملین سے زیادہ تھی۔ ان میں زیادہ تر فلسطینی کرنسی اردن میں تھی۔ 34.5 ملین فلسطینی پائونڈ عرب شہریوں اور یہودیوں کے پاس تھے اور اسرائیل کے قیام کے بعد بھی عرب شہریوں کے پاس 23.5 ملین پائونڈ موجود رہے۔
فلسطینی ماہر معیشت عاطف علاونہ کا کہنا ہے کہ اس وقت فلسطین کے پرانے کرنسی نوٹ نایاب ہوچکے ہیں تاہم اگر کسی کے پاس وہ دستیاب بھی ہیں تو منہ مانگی قیمت پر فروخت ہو جاتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
