(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیل میں صہیونی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کا شکار بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی محمد القیق کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔ اسیر کے وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ ان کے موکل کی رہائی کا اعلان نہ کیا تو اس کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسیر بھوک ہڑتالی صحافی محمد القیق کے وکیل اشرف ابو سنینہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی بھوک ہڑتال کو 67 روز مکمل ہوگئے ہیں۔ اس عرصے میں اس کا 35 کلوگرام وزن کم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے چند گھنٹے اسیر کی صحت کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ خدشہ ہے کہ صہیونی جیلر انہیں دوبارہ زبردستی خوراک یا دوائی دینے کی کوشش کریں گے۔
ابو سنینہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ میں القیق کی رہائی کے لیے دی گئی درخواست پر فیصلے کا انتظار ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے القیق کی انتظامی حراست کو معطل یا منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی آسکتا ہے۔
اسیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’’عفولہ‘‘ اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے پہلی بار عدالت کو بتایا گیا ہے کہ محمد القیق کی حالت تشویشناک ہے اور اس کی زندگی اب خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جب کہ اس سے قبل جاری کردہ رپورٹ میں صحافی کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ صحافی محمد القیق کو صہیونی فوج نے 21 نومبر 2015 ء کوالخلیل شہر سے حراست میں لیا۔ دوران حراست اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بعد ازاں اسےانتظامی قید میں ڈالنے کا حکم دیا گیا مگر محمد القیق نے انتظامی قید کی سزا کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کردی۔
ادھر یورپ میں بھی فلسطینی بھوک ہڑتالی صحافی کے حوالے سے سیاسی، سفارتی اور ابلاغی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔ انسانی حقوق گروپ ’’یورو ۔ مڈل ایسٹ آبزرویٹری‘‘ کی جانب سے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اور پارلیمان میں سول فریڈم کمیٹی کی رکن مارٹینا ایننڈرسن کوبھی مکتوب ارسال کیے ہیں جن میں ان سے القیق کی رہائی کےلیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
