رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز علی الصباح ہی سے فلسطینیوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ پہنچنا شروع ہوگئی تھی۔ شمالی اور جنوبی فلسطین کے علاوہ غزہ کی پٹی سے 200 فلسطینیوں نے قبلہ اوّل میں نماز جمعہ ادا کی۔ اس کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس سے ہزاروں افراد قبلہ اوّل میں پہنچے۔
نماز جمعہ کی امامت ممتاز عالم دین الشیخ یوسف ابواسنینہ نے کی۔ انہوں نے قبلہ اوّل کے ایک دوسرے خطیب الشیخ محمد سلیم کو پچھلے جمعہ کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی امور میں کھلی مداخلت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ الشیخ محمد سلیم نے اپنے جمعہ کے خطبہ میں ایسی کوئی بات نہیں کی جسے اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیا جاسکے۔ صہیونی فوج نے انہیں ہراساں کرنے کے لیے گرفتار کیا اور کئی گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا۔
الشیخ ابو اسنینہ نے مسجد اقصیٰ میں یہودی آباد کاروں کے دوھاؤں کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہودی مذہبی تہواروں کی آڑ میں قبلہ اوّل کا تقدس پامال کرتے ہیں۔
