فلسطینی تنظیموں کے مابین مفاہمت پر عمل کے لیے بنائی گئی بنیادی آزادیوں کی بحالی کی کمیٹی نے فتح کی جانب سے مغربی کنارے میں رہا کیے جانے والے حماس سے تعلق رکھنے والے سیاسی اسیران کی فہرست کی درستی کی نفی کرتےہوئے اسے غیر حقیقی قرار دے دیا۔
شہری آزادیوں کی بحالی کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ فہرست میں دیے گئے نام والے افراد کو یا تو بہت پہلے ہی رہا کر دیا گیا تھا یہانہیں سرے سے گرفتار ہی نہیں کیا گیا۔
کمیٹی کے عہدیدار ابو شمالہ نے خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ کو بتایا کہ آزادیوں کی کمیٹی نے فتح کی جانب سے ملنے والی 64 افراد کی فہرست پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ ان کو کئی روز پہلے رہا کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد انہیں دوبارہ گرفتار نہیں کیا گیا۔
کمیٹی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ کمیٹی فلسطینی اتھارٹی اور فتح کی قیادت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے موقع پر خود حاضر رہے تاکہ سیاسی اسیران کی رہائی کے کام کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

