رپورٹ کے مطابق نماز جمعہ کے موقع پر اسرائیلی فوج نے بیت المقدس بالخصوص قبلہ اوّل کے آس پاس کی کالونیوں کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کررکھا تھا۔ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے فلسطینیوں کو قبلہ اوّل میں پہنچنے سے روکنے کی مذموم کوششیں صبح ہی سے شروع ہوگئی تھیں تاہم اس کے باوجود ساٹھ ہزار فلسطینی نماز جمعہ کے وقت تک قبلہ اوّل میں پہنچ چکے تھے۔
نماز جمعہ کی امامت ممتاز عالم دین اور قبلہ اوّل کے امام وخطیب الشیخ یوسف ابو سنینہ نے کرائی۔ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی قید میں موجود اپنے بہن بھائیوں کی رہائی کے لیے کوششیں تمام فلسطینیوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اسیران کی رہائی کے لیے کسی بھی فورم سے ہونے والی مساعی کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ پرامن احتجاج کے ذریعے ہمیں اپنے پیاروں کو دشمن کی قید سے چھڑانے کی جدو جہد جاری رکھنی چاہیے۔
الشیخ ابو سنینہ نے صہیونی ریاست سے فلسطینی قیدیوں کو اذیتیں دینے کا ظالمانہ سلسلہ بند کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی قید میں اپنے شب ورز گذارنے اور قید وبند کی صعوبتیں جھیلنے والے بھی قوم کے ہیرو ہیں۔
نماز جمعہ کے بعد مسجد اقصیٰ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والےفلسطینی محمد القیق کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں القیق کی تصاویر او پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر اس کی فوری رہائی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے القیق کی رہائی کے لیے نعرے بازی بھی کی اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ القیق کو صہیونی ظلم سے نجات دلانے اور اس کی زندگی بچانے کئے لیے اسرائیل پردباؤ ڈالے۔
