مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں ایک تقریب سےخطاب کرتے ہوئےصدرعباس نے کہا کہ صہیونی حکومت فلسطینیوں سے ان کی اراضی غصب کرنے اور ن پر یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو اقتصادی اور زرعی شعبوں میں محروم کررہی ہے۔ نام نہاد سیکیورٹی کی آڑ میں فلسطینیوں کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے یہ طرز بیان قدرے خلاف معمول اختیار کیا ہے۔ عموما وہ اسرائیل کے بارے میں اتنے سخت لہجے میں بات نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان صرف سیاسی محاذ آرائی جاری ہے مگر اسرائیل کے ظالمانہ ہھتکنڈوں یہ جنگ دو مذاہب کے درمیان کشمکش میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری اسرائیل پرعاید ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ میں باربار اسرائیل کو خبردار کرچکا ہوں کہ سیاسی جنگ کو مذہبی جنگ کی طرف نہ لےکرجائے۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے لیکن اب اس کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اسرائیلیوں کو واضح پیغام دے چکا ہوں کہ وہ ہمارے مقدس مقامات، مساجد اور کلیسائوں کے قریب نہ آئے ورنہ حالات اس قدر بے قابو ہوں گے کہ انہیں سنھبالنا مشکل ہوجائے گا۔
صدر محمود عباس نے کہا کہ عام شہریوں کا دونوں طرف قتل قابل مذمت ہے۔ ہم امن وآشتی کے خواہاں ہیں،امن کے ساتھ ہیں اور جنگ کے مخالف ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسرائیل ہماری امن پسندی کی آڑ میں مسجد اقصیٰ اور ہمارے دیگر مقدسات کی بے حرمتی کرتا پھرے۔
انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔ اسرائیل کے ایسا کرنے سے فلسطین میں بندرگاہیں اور ہوائی اڈے بنانے سے اسرائیل زوال پذیر نہیں ہوگا بلکہ مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی زمین پرسرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ہماری وہ زمین واپس چاہیے جسے ہمیں محروم کردیا گیا۔
صدر محمود عباس نے دعویٰ کیا کہ اب تک 135 ممالک فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔ اب ہم سلامتی کونسل کی جانب سے فلسطینی ریاست کی حمایت کے لیے کوشاں ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ عالمی ادارہ کب ہمارے حق میں فیصلہ دیتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
