فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت "الفتح” اور اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے درمیان دسمبر2011ء میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے مطابق سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرنے کے اعلان
کے باوجود مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی حماس کےکارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق عباس ملیشیا نے جنوری میں مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں تلاشی کی کارروائیوں کے دوران تنظیم کےساٹھ ارکان کو گرفتار کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے شعبہ ابلاغیات کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں عباس ملیشیا نے دونوں بڑی جماعتوں کے مابین طے پائے مفاہمتی معاہدے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ ایک جانب صدرمحمود عباس نے حماس کی قیادت کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سیاسی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرائیں گے۔ اسی مقصد کے لیے دونوں جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی کام کر رہی ہے۔ صدر کے اعلان اور کمیٹی کے قیام کے باوجود نہ تو زیرحراست کارکنوں کو رہا کیا گیا اور نہ مزید گرفتاریوں کا باب بند کیا گیا ہے۔
جنوری میں عباس ملیشیا کی جانب سے حماس سے تعلق رکھنے والے مساجد کے علماء، آئمہ کرام،خطبا، موذنین، اساتذہ، یونیورسٹیوں کے طلباء اور سابق اسیران کےخلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا۔ جس میں پانچ درجن حماس کے ارکان گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کی جانب سے حماس کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ تفتیشی مراکزمیں ان کی طلبیوں کے دسیوں نوٹس بھی بھیجے گئے ہیں۔ فلسطینی عدالتوں کی جانب سے سیاسی کارکنوں کی رہائی کےاحکامات کو بھی کلی طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ حماس کی جانب سے یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مفاہمت کےلیے فریم ورک تیار کیا جارہا ہے۔ مغربی کنارے میں فتح کی حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام جاری ہے۔ حماس سے وابستگی کی پاداش میں نہ صرف سیاسی کارکنوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے بلکہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کو ان کی نوکریوں سے محض اس لیے برطرف کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق یا ہمدردی حماس کے ساتھ ہے۔

