رپورٹ کے مطابق 33 سالہ صحافی محمد القیق کی بھوک ہڑتال کو آج 60 دن ہوچکے ہیں۔ القیق نے اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف صہیونی فوج کے تمام ہتھکنڈے مسترد کردیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ رہائی یا شہادت تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔
بھوک ہڑتالی صحافی القیق کی اہلیہ فیحاء شلش نے رپورٹر کو بتایا کہ اس کے شوہر کی حالت پہلے سےبھی زیادہ تشویشناک ہوچکی ہے۔ ان کے وکیل جواد بولس کا کہنا ہے کہ جیل میں انہوں نے اپنے موکل سے ملاقات کی مگر وہ زیادہ تر بےہوشی کے عالم میں رہتے ہیں۔
فلسطینی صحافی کی اہلیہ نے بتایا کہ اس کے شوہر کی زندگی کو حقیقی معنوں میں خطرات لاحق ہیں۔ اگر اس کی بھوک ہڑتال فوری ختم نہ کی گئی تو ان کی زندگی بھی جاسکتی ہے۔
شلش نے بتایا کہ القیق کی بھوک ہڑتال نے انہیں غیرمعمولی طورپر کمزور کیا ہے۔ بھوک ہڑتال کے باعث القیق کا وزن صرف 30 کلو گرام رہ گیا ہے۔ سرمیں درد اوربخار کی شدت میں مسلسل اضافہ ہور رہا ہے۔
ادھر فلسطین بھر میں آج بھوک ہڑتالی فلسطینی صحافی کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے۔ آج کے روز القیق سے یکجہتی کے لیے عوامی سطح پر جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا جائے گا جب کہ ذرائع ابلاغ بالخصوص ریڈیو اور ٹی وی القیق کی بھوک ہڑتال کو خصوصی کوریج دیں گے۔
