فلسطینی اتھارٹی کی جیل میں قید سیاسی قیدی 30 سالہ اسلام حامد نے اپنی پانچ سال سے جاری غیر قانونی قید کی سزا کے خلاف بھوک ہڑتال 58 دنوں سے جاری کررکھی ہے۔
خبررساں ایجنسی قدس پریس کے مطابق ان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حامد نے کئی روز قبل ہی پانی اور نمک کھانا بند کردیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام حامد اپنی قید مکمل ہونے کے بعد اب اپنی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں اور اسی لئے انہوں نے دو ماہ قبل اپنی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔
حامد کو 4 ستمبر 2010ء میں فلسطینی اتھارٹی کی انٹیلی جنس ایجنسی نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے یہودی آبادکاروں کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
