(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک جیل میں قید بھوک ہڑتالی فلسطینی صحافی کی زبردستی بھوک ہڑتال ختم کرنے کےصہیونی ہتھکنڈے بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ فلسطینی صحافی نے بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے اور آج اس کی مسلسل بھوک ہڑتال کا 56 واں روز ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھوک ہڑتال فلسطینی صحافی کی اہلیہ فیحا شلش نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے شوہرکے وکیل میں جیل میں القیق سے ملاقات کی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ محمد القیق بے ہوش ہیں اور انہوں نےبھوک ہڑتال مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے۔بل ازیں صہیونی حکام کی جان سے صحافی محمد القیق کو زبردستی خوراک دینے کی کوشش کی گئی تھی جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔
فلسطینی انسانی حقوق مرکز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کسی بھوک ہڑتالی شہری کی ہڑتال زبردستی ختم کرانے کا کوئی اصول موجود نہیں ہے۔ طاقت کے استعمال سے کسی کو خوراک نہیں دی جاسکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیاہے کہ وہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی کی زندگی بچانے کے لیے اسرائیل پردباؤ ڈالے۔
خیال رہے کہ فلسطینی صحافی محمد القیق کی بھوک ہڑتال کو 56 دن ہوگئے ہیں۔ گذشتہ روز اسرائیلی فوجیوں نے اس کی بھوک ہڑتال زبردستی ختم کرانے کےلیے اسے ناک کے راستے سے خوراک دینے کی مذموم کوشش کی گئی تھی۔
فلسطینی صحافی پچھلے دو ماہ سے اسرائیلی فوج کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے اپنی بلا جواز گرفتاری اور دوران حراست تشدد کے خلاف چھپن روز قبل بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ چالیس دن تک بھوک ہڑتال کےبعد القیق بے ہوش ہونے کے بعد کومے میں چلے گئے تھے۔ انہیں ہوش میں لانے کے لیے اسرائیلی فوج نے انہیں زبردستی خوراک دینا شروع کردی ہے۔
