• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

‘غزہ میں اسرائیل کی 51 روزہ جارحیت سے ایک ہزار فلسطینی بچے معذور ہوئے’

بدھ 26-08-2015
in فلسطین
0
plf thousand-diabled
0
SHARES
3
VIEWS

بچوں کے دفاع کی عالمی تنظیم نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پچھلے سال سات جولائی سے 26 اگست تک غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی ریاست کی اکاون روزہ وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی بچے معذور ہوگئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اب دوسروں کے سہارے پرزندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم نے غزہ کی پٹی میں بچوں کی معذوری سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق "اوچا” کے اعدادو شمار سے بھی استفادہ کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ وحشیانہ جنگ کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ بچے معذور ہوئے۔ ان میں سے 30 بچے ایسے ہیں جو اب دوسروں کے سہارے جینے پرمجبور ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوج کی وحشیانہ بمباری سے 2220 فلسطینی شہید ہوئے۔ ان میں سے 1492 عام شہری تھے۔ جنگ کے نتیجے میں 3374 عام شہری معذور ہوئے جن میں 1000 بچے شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگ کے باعث غزہ کی پٹی میں معذور ہونے والے بچوں میں زیادہ تر جسمانی معذور ہیں۔ تاہم ایک خاطر خواہ تعداد ان بچوں کی بھی ہے جو ذہنی اور نفسیاتی معذوری کا شکار ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں معذور ہونے والے بعض بچوں کو بہ طورپر گواہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ان ہی میں رفح شہر کا ابراہیم ابو شباب بھی شامل ہے۔ ابو شباب پچھلے سال اسکول میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ اسرائیلی فوج کی بمباری سے اس کی ریڑھ کی ہڈی متاٖثر ہوئی، ایک جبڑا اور دائیں ٹانگ کٹ چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا جسم گولیوں سے چھلنی تھا۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذور ہوچکا ہے۔

معذور بچے کی والدہ نے بتایا کہ انہوں نے غزہ کی پٹی میں ایک اسپتال میں اپنے زخمی بچے کا علاج کرایا۔ جہاں سرجری کے ذریعے اس کے جسم سے بموں کے چھرے تو نکال دیے گئے ہیں مگر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذور ہوچکا ہے۔ اسے ایک سال کےبعد اب دوبارہ وہیل چیئر پر اسکول لے جایا جاتا ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.