اسرائیل کے وزیر برائے آباد کاری "اوری ارئیل” نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اگلے پانچ سال میں دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد میں 50 فی صد اضافے کے ایک بڑے منصوبے پر کام کررہی ہے۔
اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر برائے آباد کاری کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی سے آزاد فلسطینی ریاست کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رہنے کے باوجود بھی یہودی آباد کاروں کی تعداد میں اضافے کے منصوبے پر کام جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ سنہ 2019 ء تک مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد میں مزید 50 فی صد اضافہ ہوچکا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگلے پانچ سال میں مغربی کنارے کی سب سے بڑی یہودی کالونی "یہودا السامرہ” میں یہودی آباد کاروں کی تعداد چار لاکھ نہیں بلکہ پانچ لاکھ 50 ہزار یا 06 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
اوری ارئیل کا مزید کہنا تھا کہ پیش آئند پانچ سال کے دوران مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی تعداد تین سے تین لاکھ 50 ہزار تک پہنچ جائے گی۔
