رپورٹ کے مطابق فلسطینی سیکرٹری تعلیم انور البرعاوی نے حکومتی عہدیداروں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں عائد اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں محکمہ تعلیم براہ راست متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی پابندیوں کے نتیجے میں غزہ کے 50 اسکولوں کو تعلیمی اور تدریسی امور کے لیے تیار نہیں کیا جاسکا ہے۔
فلسطینی سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ حکومت نے عرب ممالک اور امدادی دینے والے عالمی اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں تعلیمی اور تدریسی امور کے معاونت کے لیے اضافہ امداد مہیا کریں اور اسرائیل کی جانب سے عاید اقتصادی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالیں۔
البرعاوی کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی میں اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل معطل رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں ہرسال ہزاروں کی تعداد میں نئے طلباء داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سے موجود اسکولوں میں جگہ تنگ پڑنے کے باعث نئے اسکولوں کے قیام کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ فلسطینی محکمہ تعلیم نے اپنی مدد آپ کے تحت غزہ میں 50 نئے پرائمری اور مڈل اسکول قائم کرنے کے لیے کوششیں شروع کی تھیں مگراسرائیلی حکومت کی طرف سے عائد کردہ ناروا پابندیوں کے باعث اسکولوں کےقیام اور ان کی تیاری کے مراحل مکمل نہیں ہوسکے ہیں۔
