مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم” فلسطین۔شام ایکشن گروپ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بیروت کے "عین الحلوہ” پناہ گزین کیمپ میں کچھ عرصہ قبل جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والے فلسطینی پناہ گزین کو بیروت کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم وہ جلد ہی دم توڑ گیا تھا۔ اب اسپتال کی انتظامیہ نے متوفی فلسطینی کی میت قبضے میں لے رکھی ہے اور اس کے ورثاء کو حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ میت کی حوالگی کے بدلے میں ورثاء سے پینتالیس ہزار ڈالر کی رقم طلب کی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپتال میں فوت ہونے والے فلسطینی مازن منیر صالح کے اہل خانہ نے لبنانی حکومت اور عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بیٹے کی میت لینے میں ان کی مدد کریں اور اسپتال انتظامیہ پربھی دبائو ڈالا جائے کہ وہ مرحوم کی علاج کے بدلے میں تاوان کا مطالبہ ترک کریں۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے کے بعد مازن صالح کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تو اس کے فوت ہونے سے قبل اسپتال نے اپنی جانب سے اس کے علاج معالجے کے لیے 45 ہزار ڈالر کے اخراجات کیے تھے۔ اس لیے مرحوم کے ورثاء اپنے عزیز کی میت کے حصول سے قبل اس کے علاج پرہونے والے اخراجات ادا کریں۔ ورنہ اس کی میت نہیں دی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم”ریڈ کراس” نے مرحوم فلسطینی پناہ گزین کی میت کے حصول کے لیے 1500 ڈالر کی رقم ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔ ادارے نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ذمہ دار ادارے”اونروا” پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مازن منیر صالح کی میت اسپتال سے وصول کرنا "اونروا” کی ذمہ داری ہے مگر اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی اس معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے
