(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی شہری کو اسرائیلی حکام نے اس کی مدت حراست مکمل ہونے کے بعد رہا کردیا ہے۔دوسری جانب بیت المقدس کے دو مزید قیدی اپنی اسیری کے نئے برسوں میں داخل ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی اسیران کے اہل خانہ پرمشتمل کمیٹی کی جانب سےجاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 23 سالہ حسام الدین عمران صندوقہ کو 43 ماہ قید کے بعد رہا کیا گیا۔ انہوں نے اسیری کا تمام عرصہ جزیرہ نما النقب کی جیل میں گذرا۔عمران صندوقہ کا آبائی تعلق مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع شعفاط پناہ گزین کیمپ سے ہے۔ انہیں 13 اکتوبر 2012 ء کو حراست میں لیا گیا اور یہودی تنصیبات پرسنگ باری اور پٹرول بم حملوں کے الزامات میں 43 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اہالیان اسیران کمیٹی کے مطابق دو فلسطینی قیدی 35 سالہ راندی عیسیٰ عادل عودہ اور نضال عید تمیم مشعل اپنی اسیری کے 14 سال مکمل کرنے کے بعد اسیری کے 15 ویں برس میں داخل ہوگئےہیں۔ عودہ کو صہیونی حکام نے 8 مارچ سنہ 2002 ء کو حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں 18 سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا ہے جب کہ نضال مشعل کو 7 مارچ 2002 ء کو گرفتار کیا گیا اور اسے 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
