مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وادی حلوہ ۔ سلوان انفارمیشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کی بے حرمتی کے واقعات بھی عروج پر رہے ہیں۔ مارچ میں 1250 انتہا پسند یہودی آباد کاروں، فوجیوں، یہودی مدارس کے طلباء اور دیگر انتہا پسندوں نے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔ یہودی آباد کار پولیس اور فوج کی فول پروف سیکیورٹی میں قبلہ اول میں داخل ہوتے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں قبلہ اول کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ پر یلغار کرنے والوں میں عام یہودی انتہا پسندون کے علاوہ اہم صہیونی حکومتی اور فوجی شخصیات بھی پیش پیش رہیں۔ اسرائیلی کنیسٹ کے شدت پسند اسپیکر "موشے ویگلن” انتہا پسند یہودیوں کا سربراہ ربی "یہودا گلیک” اور درجنوں دوسرے عہدیدار بھی قبلہ اول میں داخل ہوتے اور اس کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں۔ یہودی انتہا پسندوں کی یلغار کے جلو میں قابض صہیونی پولیس نے چار خواتین اور دو بچوں سمیت 20 فلسطینیوں کے قبلہ اول میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مارچ میں مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کا نہتے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی عروج پر رہا۔ اس دوران 13 سے 17 سال کے درمیان کے 40 بچوں سمیت 120 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
