مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "مرکز برائے اسیران” کیجانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ زیر حراس بچے کے والدین نے انہیں بتایا کہ اس کے بیٹے کو مسلسل حراست میں رکھا گیا ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے بیٹے سے ملاقات کی اجازت ملنے کے باوجود جیل انتظامیہ نے 40 روز میں اس کے ساتھ صرف ایک بار ملاقات کرائی ہے۔
زیرحراست بچے کے والد نے بتایا کہ اس کا بیٹا خون کی کمی کا شکار ہے اور انہیں خدشہ ہے دوران حراست اس کی بیماری مزید شدت اختیار کرسکتی ہے کیونکہ جیل میں اس کے علاج معالجے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔
بچے کے والد نے بتایا کہ خالد محمود دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اسے 25 دسمبر 2014ء کو اسکول سے واپس آتے ہوئے حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ ابھی تک مسلسل "عوفر” جیل میں ہے جہاں اس پر سنگ باری اور ٹائر جلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس مقدمے میں اسے اب تک تین بار ایک فوجی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔
