اسرائیلی جیلوں میں قید انتظامی اسیران نے صحت کی خرابی کے باوجود بھی مسلسل 40 دنوں سے غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے متعدد گروہوں نے کہا ہے کہ بھوک ہڑتالی اسیران کی صحت انتہائی خطرناک حالت تک گرچکی ہے اور وہ کسی بھی لمحے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔
بھوک ہڑتالی اسیران کا مقصد ہے کہ وہ اپنے جیلرز پر دبائو ڈال کر اپنی حالت زار کو بہتر بنوائیں اور انتظامی حراست کی پالیسی کو فوری طور پر ختم کروا دیں۔ایک اور تناظر میں فلسطینی ممبر پارلیمان فتحی قراوی نے فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کی جانب سے وزارت اسیران کو ختم کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔ قراوی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی جیلوں میں قید تمام اسیران کی حمایت کرنے والی تمام قومی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
فلسطینی ممبر پارلیمان نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کے خلاف کوئی سازش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیوںکہ ان میں سے اکثر لوگ تحریک حماس سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس موقع پر حماس کے رہنما حسام بدران نے کہا ہے کہ بھوک ہڑتالی اسیران نے مثالی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور مطالبہ کیا کہ اسیران کے احتجاج کو مزید عوامی حمایت فراہم کی جائے۔
