فلسطین کے ممتاز دانشور اور بیت المقدس کےامور کے ماہرخلیل تفجی نے بیت المقدس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کو رہائش کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ رہائشی مسائل اور آبادی میں پائی جانے والی تنگی دور کرنے کے لیے فوری طورپر چالیس ہزار مکانات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیت المقدس میں القدس میں پانچ فی صد مسلمان آبادی ان مکانات میں رہتی ہے جنہیں صہیونی حکام کی جانب سے غیرقانونی قراردے کرانہیں مسمار کرنے کا حکم دیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ آبادی کے بڑھنے اور رہائشی سہولیات کی کمی نے شہریوں میں سماجی اور صحت جیسے مسائل پیدا کیے ہیں۔
خلیل تفجکی کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں مسلط اسرائیلی نام نہاد بلدیہ فلسطینیوں کو مکانات کی تعمیر کی اجازت دینے میں دانستہ کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ دوسرے معنوں میں فلسطینیوں کا تشخص مٹانے کے لیے ان پرعرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہودی آباد کاروں کے لیے دھڑا دھڑ مکان بن رہے ہیں۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ فلسطین میں آبادیاتی توازن بگاڑنے کی صہیونی پالیسی اپنے نتائج کے اعتبار سے نہایت خطرناک ہے۔صہیونی حکومت بیت المقدس میں مکانات پرپابندی لگا کر فلسطینی آبادی کو اجتماعی سزا دینے کی سازش کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیت المقدس میں آبادی میں تیزی سے اضافے نے شہریوں کی مشکلات دوچند کردی ہیں۔ مشرقی بیت المقدس میں دو مربع کلو میٹر علاقے میں 13 ہزار 500 افراد رہائش ہیں۔ جب کہ مغربی بیت المقدس میں فلسطینی آباد کا تناسب دو کلو میٹر میں 8,300 افراد ہے۔ آبادی میں بے پناہ اضافے کے باعث فلسطینیوں کو فوری طورپر 40 ہزار مکانات کی ضرورت ہے جب کہ ہرسال آبادی کے تناسب سے 10 ہزار مکانات کی ضرورت ہے۔
