(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے 35 ماہ تک انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل رکھنے کے بعد اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے مرکزی رہنما اور فلسطینی پارلیمنٹ کے رکن محمد جمال النتشہ کو رہا کردیا۔
رپورٹ کے مطابق حماس رہنما جما النتشہ کی اہلیہ احلام الشعراوی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے انہیں النتشہ کی رہائی کے بارے میں منگل کو مطلع کیا گیا تھا۔ کل بدھ کو انہیں رہا کردیا ہے جس کے بعد وہ مغربی کنارے کے جنوبی شہرالخلیل میں اپنی رہائش گاہ پر پہنچ چکے ہیں۔الشعراوی نے بتایا کہ ان کے شوہر کو صہیونی حکام نے مسلسل 35 ماہ تک انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل رکھا۔
انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ جمال النتشہ کو اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے براہ راست پانچ بار تواتر کے ساتھ انتظامی قید کی توسیع کی گئی۔
خیال رہے کہ پچھلے سال اسرائیلی جیلوں میں انہوں نے فلسطینی قیدیوں کی ہونے والی اجتماعی بھوک ہڑتال میں بھی حصہ لیا اور مسلسل 63 روز تک بھوک ہڑتال کی تھی۔ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے انہیں قیدیوں کی بھوک ہڑتال کا منصوبہ ساز قرار دیا تھا۔
خیال رہے کہ سنہ 1992 ء میں فلسطین میں بے دخل کیے گئے حماس رہنما جمال النتشہ 20 سال تک اسرائیلی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔
