یہ تفصیلات صرف ایک سیکٹر کی ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے دوسرے علاقوں، وادی اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں منہدم کیے گئے مکانات کی کل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہ اعدادو شمار اسرائیل کی ایک تنظیم’’بیکوم‘‘ کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1967 ء کی جنگ کےبعد اسرائیل نے مغربی کنارے کے سیکٹر C پر خاص توجہ مرکوز کیے رکھی جہاں بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے مکانات منہدم کیے گئے۔ اس سیکٹر میں مجموعی طورپر 60 فی صد مکانات گرائے گئے۔
فلسطینیوں پرپابندی، صہیونیوں کے لیے کھلی چھوٹ
انسانی حقوق کی تنطیم کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے مذکورہ سیکٹر میں یہودی آباد کاروں کے لیے ہرقسم کی تعمیراتی کی کھلی اجازت ہے لیکن فلسطینیوں کو اپنے ہی مکانا کو مرمت کرنے، انہیں نئے سرے سے تعمیر کرنے یا نیا مکان تعمیر کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ فلسطینی جب بھی کسی مکان کی تعمیر ومرمت کے لیے اجازت مانگتے ہیں تو ان کی درخواست فورا مسترد کردی جاتی ہے جبکہ یہودی آباد کاروں کی کوئی درخواست مسترد نہیں کی جاتی بلکہ اسے کم سے کم وقت میں منظور کرلیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں کو کہا جاتا ہے کہ مغربی کنارے میں ان کےلیے مکانات کی تعمیر ممنوع ہے۔ فلسطینیوں کے لیے مکانات کی تعمیرغیرقانونی قرار دینے کی آڑ میں ہزاروں کی تعداد میں مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ غرب اردن کا سیکٹر’’سی‘‘ 630 ایکڑرقبے پرمشتمل ہے۔ اسرائیل انتظامی اور سیکیورٹی کے حوالے سے اس سیکٹر پرقابض ہے اور اس کا ’’سول ایڈ منسٹریشن‘‘ نامی محکمہ اسرائیلی وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتا ہے جو اس سیکٹر کو بھی کنٹرول کررہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق اس سیکٹر میں 02 لاکھ 98 ہزار فلسطینی آباد ہیں جو مجموعی طورپر 532 رہائشی کالونیوں میں تقسیم ہیں۔ اسی سیکٹر میں 3 لاکھ 41 ہزار یہودیوں کو بھی بسایا گیا ہے جو 135 بڑی اور 100 چھوٹی کالونیوں میں آباد ہیں۔
سیکٹر کے 360 رقبے میں فلسطینیوں کو صرف ایک فی صد پرترقیاتی کام کرنے کی اجازت ہے جبکہ یہودیوں کے لیے یہ چھوٹ کل رقبے کے 70 فی صد پرہے۔ جہاں وہ چاہیں مکانات یا کسی بھی قسم کی تعمیرات کرسکتے ہیں۔ سیکٹر کے باقی ماندہ 29 فی صد رقبے پر فوجیوں کا کنٹرول ہے جس پر کسی قسم کی تعمیراتی کی اجازت نہیں۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 1993 ء میں اوسلو معاہدے کے بعد اسرائیل نے سیکٹر C میں فلسطینیوں کے مکانات مسماری کے 14600 نوٹسز جاری کیے گئے جن میں 2925 مکانات مسمار کیے گئے۔
اسرائیلی تنظیم سے وابستہ آرکیٹیکٹ انجینیر’’الون کوھین لیفچیٹر‘‘ کا کہنا ہے کہ اوسطا ایک حکم نامے میں دو مکانات کی مسماری کا حکم دیا گیا اور مجموعی طورپر تیس ہزار مکانات مسمار کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال کے دوران 911 انہدامی نوٹسز جاری کیے گئے۔ صہیونی حکومت کی جانب سے 9100 نوٹسز مزید بھی تیار کیے گئے ہیں جو کسی بھی وقت جاری کیے جا سکتے ہیں۔ مسماری کی کارروائیوں میں نہ صرف مکانات شامل ہیں بلکہ راستے، سڑکیں، قبرستان، پانی کی ٹینکیاں اور اسکولوں اور اسپتالوں کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔
فوجی منصوبہ بندی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے سنہ 1996 ء کے بعد اس سیکٹر میں فلسطینیوں کو مکانات کی تعمیر کی اجازت سے متعلق جو درخواستیں منظور کی ہیں وہ انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔
سنہ 1996 ء سے 1999 ء تک فلسطینیوں کی مکانات کی تعمیر سے متعلق کل 76 درخواستیں منظور کی گئیں اور 2000 ء سے 2014 ء کے اختتام تک صرف 206 درخواستیں منظورکی گئیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
