رپورٹ کے مطابق پچھلے چار ماہ کے دوران فلسطینی شہریوں کے صہیونی فوجیوں پر حملوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم اکتوبر 2015 ء سے 31 جنوری 2016 ء کے درمیانی عرصے میں 30 صہیونی ہلاک ہوئے ہیں۔فلسطینیوں کی جانب سے مجموعی طورپر صہیونیوں پر 211 حملے کیےگئے، ان میں سنگ باری کے 91 ، چاقو کے 83 ، گاڑیوں تلے کچلے جانے کے 22 اور فائرنگ کے 15 واقعات درج کیے گئے جن میں 30 صہیونی ہلاک اور 301 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے حملوں میں 27 صہیونی شدید زخمی ہوئے ہیں، 8 کے زخم درمیانے اور خطرناک درجے کے درمیان، 46 زخمی درمیانے درجے کے اور 209 معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کے حملوں میں 106 اسرائیلی خوف کے باعث بے ہوش ہوئے جنہیں علاج کے لیے اسپتالوں میں لے جانا پڑا۔
بیت المقدس میں 13 ستمبر 2015 ء کو سنگ باری کے نتیجے میں ایک یہودی ہلاک ہوا۔ یکم اکتوبر 2015 ء کو نابلس میں فائرنگ کے نتیجے میں دو صہیونی جہنم واصل ہوئے۔ 3 اکتوبر کو بیت المقدس میں چاقو کے حملے میں ایک یہودی ہلاک جب کہ ایک یہودی 13 اکتوبر کے حملے میں ہلاک ہوا۔
پچھلے سال 18 اکتوبر کو بئر سبع میں اسرائیل کے ایک ریلوے اسٹیشن پر فائرنگ کے حملے میں دو اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ 20 اکتوبر کو کریات اربع کالونی کے قرین گاڑی کی ٹکر سے ایک یہودی ہلاک ہوا، 13 نومبر 2015 ء کو الخلیل میں حلحلو شہر میں زخمی یہودی اسپتال میں دم توڑ گیا۔
نومبر 13 ، 2015 ء کو تل ابیب میں فائرنگ کے واقعے میں دو یہودی ہلاک ہوئے، 19 نومبر کو گوش عتصیون میں چاقو کے حملے میں ایک یہودی ہلاک ہوا۔
بیت حورون کالونی کے قریب شاہراہ 433 پر پٹرول اسٹیشن کے قریب چاقو کے حملے میں ایک یہودی جہنم واصل ہوا جب کہ 23 نومبر کو زخمی ہونے والا ایک یہودی 15 دن کے بعد ہلاک ہوگیا۔
بیت المقدس میں باب الخلیل کے مقام پر 23 دسمبر کو چاقو کےحلے میں دو یہودی ہلاک ور تیسرا یہودی 1 جنوری 2016 ء کو اسی علاقے میں 17 جنوری کو اسی علاقے میں چاقو کے حملے میں ہلاک ہوا۔ اس سلسلے کا آخری واقعہ 25 جنوری کو پیش آیا جب بیت حورون کے مقام پر چاقو کے حملے میں ایک یہودی ہلاک ہوگیا۔
