رپورٹ کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ بیت المقدس کی فلسطینی آبادی کو اسرائیلی ریاست کے ایک انتہائی خطرناک منصوبے کا سامنا ہے جس کے تحت بڑی تعداد میں فلسطینی آبادی کو گھروں کی چھت سے محروم کیے جانے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔
الشیخ صبری نے کہا کہ اسرائیل ایک منظم اور طے شدہ حکمت عملی کے تحت بیت المقدس سے فلسطینی آبادی کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔ آئے روز ہونے والی گرفتاریاں، کریک ڈاؤن، شہریوں کا ماورائے عدالت قتل، جیلوں میں تشدد، بیت المقدس کے شہریوں کو بھاری جرمانے، مسجد اقصیٰ میں نماز کے لیے آنے سے روکنا اور ان کے مکانات کی مسماری تمام وہ مکروہ ہتھکنڈے ہیں جنہیں فلسطینی آبادی کووہاں سے نکل جانے پرمجبور کرنے کے لیے اپنایا جاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں الشیخ صبری کا کہنا تھاکہ سنہ 2016 ء کے پہلے مہینے میں فلسطینی شہریوں کے 54 مکان مسمارکیے گئے ہیں۔ مکانات مسماری کا تازہ سلسلہ بیت المقدس میں 30 ہزار مکانوں کو منہدم کرنے کے مکروہ حربے کا حصہ ہے۔ انہوں نے بیت المقدس کے شہداء کے مکانات مسمار کرنے کو بھی فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو گھروں کی چار دیواری سے محروم کرنے کے لیے محض نام نہاد بہانے تراش رہا ہے۔
