اسرائیلی عدالت نے بدھ کے روز مشرقی القدس میں قبلہ اول کی جنوبی بستان کالونی کے متعلق ایک فیصلہ سناتے ہوئے کالونی کے 29 گھروں کو ستمبر سے پہلے پہلے منہدم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
سلوان کی دفاعی کمیٹی نے بتایا کہ انہدامی احکامات کی مدت میں اب مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔
کمیٹی نے بتایا کہ کالونی کے مکینوں کو گھروں کے گرانے کے نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں، کمیٹی نے واضح کیا کہ گھروں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرلی گئی۔
سلوان دفاعی کمیٹی نے واضح کیا کہ اسرائیلی بلدیہ اور صہیونی تنظیموں نے کالونی کو یہودی رنگ میں رنگنے اور یہاں موجود گھروں کی جگہ تلمودی باغات بنانے کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے کئی قانونی راستے نکال رکھے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد بستان کالونی اور القدس کے شہریوں کے مابین غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بالخصوص اس موقع پر جب کسی بھی وقت گھروں کو گرانے کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے گھروں کے مالکان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

