اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے ایک نوجوان فلسطینی لڑکی کو صہیونی فوجی پر قاتلانہ حملے کے الزام میں دوسال ، چار ماہ قید اور دو ہزارشیکل جرمانے کی سزاکا حکم دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی جیل "عوفر” مین زیر حراست 20 سالہ ھنیہ ناصرکو گذشتہ ستمبر میں مقبوضہ فلسطین کے شہر "البیرہ” سے حراست میں لیا تھا۔
دوسری جانب اسیرہ ھنیہ ناصر کے گھریلو ذرائع کے مطابق ھنیہ کو 12 ستمبر کو رام اللہ کے قریب "نعلین” قصبے کی ایک فوجی چوکی کے قریب سے گذرتے ہوئے حراست میں لیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوجیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ھنیہ ناصرنے ایک تیزدھار آلے”خنجر” کے ساتھ ایک یہودی فوجی پر حملے کی کوشش کی تھی، تاہم اس کا قاتلانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا اور فوجیوں نے خنجر قبضے میں لےکر اسے بھی حراست میں لے لیا تھا۔
ادھر دوسری جانب صہیونی عدالت کی سزایافتہ فلسطینی دوشیزہ ھنیہ ناصرکے وکیل استغاثہ نے کہا ہے کہ اس کی موکلہ قطعی طور پر بے قصور ہیں۔ اس کےخلاف اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹرجنرل نے جتنے بھی الزامات جمع کیے ہیں وہ سب من گھڑت ہیں۔ وکیل نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بے قصور فلسطینی اسیرہ کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کریں اور اسرائیلی عدالت سے ہونے والی سزا کو کالعدام کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ صہیونی عدالت سے محروسہ کو اٹھائیس ماہ قید اور2000 شیکل جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

