رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تحریک انتفاضہ کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے براہ راست گولیاں ماری گئی تھیں۔ اسپتالوں میں لائے گئے شہداء کے جسد خاکی سے پتا چلتا تھا کہ صہیونی فوجیوں نے انہیں شہید کرنے کی نیت سے گولیاں ماریں کیونکہ بیشتر شہداء کے بالائی جسم بالخصوص سر،گردن، سینے اور چہرے پر گولیاں ماری گئی تھیں۔ نیز فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی مظاہرین پرحملوں کے علاوہ قابض فوجیوں نے دانستہ طورپر کئی بار کھیتوں میں کاشت کاری میں مصروف فلسطینیوں کو بھی اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد کسان بھی شہید ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین میں پچھلے سال اکتوبر کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ میں اب تک 160 فلسطینی شہید اور 27 صہیونی ہلاک ہوچکے ہیں۔ صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ شہادتیں مغربی کنارے میں ہوئی ہیں۔
